اشاعتیں

دوسری دنیا کی طرف سفر Part 2

تصویر
  دوسری دنیا کی طرف سفر Part 2 سوال یہ ہے کہ ہم مرنا کیوں نہیں چاہتے جو لوگ بیمار ہے یا غربت کی وجہ سے خود کشی کرتے ہے ان کی اگر غربت دور کر دی جائے تو کیا وہ پھر بھی مرنا پسند کریں گے ؟ بالکل نہیں وہ زندہ رہنا پسند کریں گے کوئی شخص بہت بیمار ہو اور بیماری کی تکلیف سے تنگ آ کر خود کشی کرنا چاہے اور کسی بھی طرح اسکی بیماری مکمل ختم ہو جاتی ہے اور وہ واپس پھر سے تندرست ہو جاتا ہے تو کیا اب بھی وہ خود کشی کرنا چاہے گا بالکل نہیں وہ کبھی نہیں مرنا چاہے گا آخر سوال پھر یہی پیدا ہوتا ہے کہ ہم مرنا کیوں نہیں چاہتے حالانکہ ہم سب کو پتہ ہے ایک دن ہم نے اس دنیا سے جانا ہے پھر بھی ہم یہ دنیا کیوں نہیں چھوڑنا چاہتے اسکا بڑا سادہ سا جواب ہے ہم موت کے بعد والی زندگی سے بے خبر ہے ہم دوسری دنیا جہاں موت کے بعد انسان داخل ہوتا ہے اس سے بے خبر ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی موت کے بعد کی زندگی ممکن ہے کیا واقعی اس ہماری مادی دنیا کے علاوہ بھی کوئی دوسری دنیا ہے ایک عام انسان کیسے یقین کریں کہ اس مادی دنیا کے علاوہ بھی کوئی دوسری دنیا ہے اگر کوئی دوسری دنیا ہے تو ہم کیسے وہاں جا سکتے ہے اور مادی ...

دوسری دنیا کی طرف سفر Part 1

تصویر
P art 1 دوسری دنیا کی طرف سفر   السلام علیکم امید ہے سب دوست ٹھیک ہوگے آج میں کچھ وضاحتیں کچھ نصیحتیں جو میں نے ایک عرصے کی محنت کے بعد سیکھی نوجوان نسل کو کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے گروپ میں اکثر نوجوان لڑکے لڑکیاں ہے جو میری تحریروں کو پڑھ کر اس پراسرار علوم کی طرف آئیں کیونکہ فیس بک پر میں نے پہلی بار اس علوم کو کھول کے رکھا ان علوم کو سمجھایا ان پراسرار علوم میں سے ایک علم ٹیلی پیتھی ہے تو میرے پاس اکثر لوگ آتے ہے کہ فرہاد بھائی ہماری محبوبہ ہمیں چھوڑ کر کسی دوسرے کی ہو گئی ہے میں ٹیلی پیتھی سیکھنا چاہتا ہوں کوئی مشق بتائے پھر کسی لڑکی کا میسج آ جاتا ہے کہ سر میں ایک لڑکے سے محبت کرتی تھی وہ لڑکا بھی مجھ سے بہت محبت کرتا تھا لیکن اب وہ بدل چکا ہے وہ کسی اور کا ہو چکا ہے میں اسکو ٹیلی پیتھی سے واپس اپنا بناؤں گی کوئی مشق دے کوئی پسند کی شادی کے لیے ٹیلی پیتھی سیکھنا چاہتا تو کوئی پیسے کے لیے تو دیکھو یار ٹیلی پیتھی بہت مشکلوں بہت ریاضتوں کے بعد ہاتھ آتا ہے اگر یہ علم اتنا آسان ہوتا تو ہر گلی محلے میں ٹیلی پیتھی کے ماہر ملتے دیکھو میں آپکو ایک بات عرض کرتا ہوں جب تک آپکی نیت ...

اپنے آپ کو تنویم زدہ کرنا (Hypnotized)

  اپنے آپ کو تنویم زدہ کرنا (Hypnotized) کرنا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہر للو پنجو کر سکتا ہے اپنے آپ کو اگر concept سمجھے ہو ۔ کسی بھی چیز کی (Base)سمجھے بغیر کوئی کام کرنے پر انسان ایسا واویلا مچاے گا اور لوگ بھی ایسے واویلے مچاے گے کہ پتا نہیں کیا نیا اجوبا ہوں گیا ہوں ۔ Way of Self Hypnosis. آرام دہ حالت میں بیٹھ جائے یہ لیٹ جاے اپنے جسم اور ماینڈ کو ریلیکس کرے کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں آپ کو کوئی ڈسٹرب نہ کرے اور نہ شور شرابہ کی آواز آئے ۔ رات کا وقت اور فجر کا وقت مناسب ہے ۔ جب آپ اس حالت میں بیٹھ جائے یہ لیٹ جاے تو زہن کو ریلیکس کرے سوچوں کا بہاؤ کم کرے پریکٹس کرنے سے سوچوں کا بہاؤ کم ہو جاے گا ۔ جب آپ کو نیند آنے لگے تب اپنے سونا نہیں ہے بلکہ تب اپنے آپ کو سجیشن دینے ہے ۔ کہ ( میں مراقبہ پابندی سے کرو گا /گی اور جب بھی مراقبہ کے لیے بیٹھوں گا/گی تو میرا ذہن تمام خیالات سے خالی ہو جاے گا) اسکی تکرار اپنے 12 یہ 15 بار کرنی ہے اور مراقبہ شروع کر دینا ہے کچھ دن تک آپ کو اسکے رزلٹس خود مل جائے گے ۔ (مراقبہ میں کسی چیز کا تصور نہیں کرنا صرف ایلفا سٹیٹ آف ماینڈ میں رہنا ہے اور...

مراقبہ کشف سمعی اور خیال کی آواز

تصویر
  مراقبہ کشف سمعی اور خیال کی آواز Kashf e Samai And Mind Reading آج ہم ٹیلی پیتھی و یکسوئی کا اہم ترین مراقبہ کے متعلق بات کریں گے جس کا نام کشف سمعی ہے جس کا ذکر آپکو ٹیلی پیتھی کی مختلف کتابوں اور کہانیوں میں ملتا ہے یہ مراقبہ باطنی سماعت کھولنے کے ساتھ ساتھ باطنی آنکھ بھی کھولتا ہے سب سے پہلے ہم۔مراقبہ کی چھوٹی سی تعریف بیان کرتے ہے مراقبہ کیا ہے مراقبہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ہم آنکھیں بند کر کے پرسکون حالت میں بیٹھ کر اپنی مرضی باقی سب خیالات کو اگنور کر کے کسی ایک خیال کسی ایک سوچ کسی ایک آواز پر سارا دھیان لگاتے ہے اس عمل کو مراقبہ کہتے ہے اس عمل سے انسان کی روحانی صلاحیتیں آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگتی ہے یہ تھی مراقبہ کی مختصر تعریف اب آتے ہے مراقبہ کشف سمعی کی طرف آوازیں دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ آوازیں جو باہر کی ہے جس میں گاڑیوں کی آواز ہارن کی آواز جانوروں یا انسانوں کے بولنے کی آواز یا اسکے علاوہ باقی جتنی بھی آوازیں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سنتے ہے دوسری کچھ آوازیں ایسی بھی ہوتی ہے جو کہیں باہر سے نہیں آ رہی لیکن ہمارے اپنے دماغ کے اندر سے ہی آ رہی ہوتی ہے لیکن ہم نے ک...

کنڈالی

تصویر
کنڈالی ایک بہت قدیم کانسپٹ ہے ہزاروں سال پہلے اور وہ یہ ہے کہ انسان کی ریڑ کی ہڈی کے بالکل جو نیچے مہرا ہوتا اخری مرا اس میں قوت چھپی ہوتی ہے اور یہ حدیث سے بھی ثابت ہے قران پاک نے ایک جگہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ جب ہم انسانوں کو قبروں سے اٹھائیں گے تو پہلو سے اٹھائیں گے یہ جو اخری ہڈی کا حصہ ہے اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے سائنٹیفک یہ ہے کہ اس میں انسان کا پورا جینیٹک کوڈ ہے تو جب اللہ تعالی اٹھائے گا تو اس ہڈی کے اندر چونکہ انسان کا پورا جینیٹک کوڈ ہے تو انسان پورا کا پورا اللہ کے حکم سے زندہ ہو جائے گا کھڑا ہو جائے گا یہ وہ ہڈی ہے جو نہ جل جاتی ہے ہزاروں سال بھی یہ دفن رہے خراب نہیں ہوتی اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو قدیم جو لوگوں نے اس کو ڈسکور کیا وہی ڈسکور کیا کہ ہم جب صوفیاء کرام کی باتیں سنتے ہیں معرفت کی بات سنتے ہیں کشف کی بات سنتے ہیں تو یہ جو ہڈی میں قوت ہے یہ سوئی ہوئی ہوتی ہے.کنڈالنی کے ذریعے مطلب کنڈالی شکتی کے ذریعے جب اس کو بیدار کیا جاتا ہے تو یہ اوپر کی طرف برین کی طرف جاتی ہے اور بیچ میں جو مختلف لطائف اتے ہیں جن کو ہم چکراس کہتے ہیں اس کو یہ ایکٹیویٹ کرتی ...