مراقبہ کشف سمعی اور خیال کی آواز

 مراقبہ کشف سمعی اور خیال کی آواز

Kashf e Samai And Mind Reading
آج ہم ٹیلی پیتھی و یکسوئی کا اہم ترین مراقبہ کے متعلق بات کریں گے جس کا نام کشف سمعی ہے جس کا ذکر آپکو ٹیلی پیتھی کی مختلف کتابوں اور کہانیوں میں ملتا ہے یہ مراقبہ باطنی سماعت کھولنے کے ساتھ ساتھ باطنی آنکھ بھی کھولتا ہے سب سے پہلے ہم۔مراقبہ کی چھوٹی سی تعریف بیان کرتے ہے
مراقبہ کیا ہے
مراقبہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ہم آنکھیں بند کر کے پرسکون حالت میں بیٹھ کر اپنی مرضی باقی سب خیالات کو اگنور کر کے کسی ایک خیال کسی ایک سوچ کسی ایک آواز پر سارا دھیان لگاتے ہے اس عمل کو مراقبہ کہتے ہے اس عمل سے انسان کی روحانی صلاحیتیں آہستہ آہستہ بیدار ہونے لگتی ہے یہ تھی مراقبہ کی مختصر تعریف
اب آتے ہے مراقبہ کشف سمعی کی طرف
آوازیں دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ آوازیں جو باہر کی ہے جس میں گاڑیوں کی آواز ہارن کی آواز جانوروں یا انسانوں کے بولنے کی آواز یا اسکے علاوہ باقی جتنی بھی آوازیں ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سنتے ہے
دوسری کچھ آوازیں ایسی بھی ہوتی ہے جو کہیں باہر سے نہیں آ رہی لیکن ہمارے اپنے دماغ کے اندر سے ہی آ رہی ہوتی ہے لیکن ہم نے کبھی اس پر دھیان نہیں لگایا
سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ہم جو آواز بولتے ہے وہ کبھی فنا نہیں ہوتی بلکہ تحلیل ہو کر اسی کائنات میں گردش کرتی رہتی ہے اور ایک لہر کی صورت اختیار کر لیتی ہے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شاید مستقبل میں کوئی ایسا حساس آلہ ایجاد کر لیا جائے جس سے ان کائنات میں بکھری ان ماضی کی آوازوں کو سنا جا سکتا ہے عموما انسانی کان بیس ہرٹز سے لیکر بیس ہزار ہرٹز تک کی ہی آوازیں سن سکتے ہے حالانکہ کچھ آوازیں ایسی بھی ہے جو بیس ہرٹز سے کم ہے جن کو انسانی کان نہیں سن سکتے اسی طرح کچھ آوازیں بیس ہزار ہرٹز سے بھی زیادہ لاکھوں ہرٹز تک ہے جن کو انسانی کان نہیں سن سکتا جیسا کہ جنات یا دوسری مخلوق کی آوازیں بھی جن کو انسانی کان نہیں سن سکتے ساینسدانوں کے مطابق شاید مستقبل میں ایسا آلہ ایجاد کر لیا جائے جس سے ان آوازوں کو بھی سنا جا سکتا ہے ایسا کوئی آلہ ایجاد ہوتا ہے یا نہیں اسکا تو پتہ نہیں لیکن البتہ انسان کی باطنی سماعت وہ آلہ ہے جس کو اگر مراقبہ سے بیدار کر لیا جائے تو انسان نہ صرف اس کائنات میں بکھری ان ماضی کی آوازوں کو سن سکتا ہے بلکہ دوسری روحانی مخلوقات کی پراسرار آوازیں بھی سن سکتا ہے جن کی فریکوئنسی بہت زیادہ کم یا بہت زیادہ ہوتی ہے بلکہ اسی طرح باطنی سماعت سے انسان کسی دوسرے کے خیالات کی آواز بھی سن سکتا ہے بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہزاروں آوازیں ایک ساتھ سنائی دے رہی ہوتی ہے اور انسان کو ان ہزاروں آوازوں میں سے کسی ایک آواز کو پکڑنے اور سننے میں مہارت حاصل کرنا پڑتی ہے
اس مراقبہ کرنے والے کو بعض دفعہ چلتے چلتے اچانک آواز آتی ہے انسان پچھے مڑ کر دیکھتا کوئی نہیں ہوتا آس پاس آواز دینے والا بھی موجود نہیں ہوتا عموما وہ آواز انسان کے اپنے ہی دماغ سے آ رہی ہوتی ہے کہیں باہر سے نہیں
عموما ہم باطنی طور پر کچھ نہ کچھ بولتے رہتے ہے چاہے ہم بظاہر خاموش ہوں لیکن ہم اپنے اندر ہی بولتے رہتے ہے ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آتا جب ہم باطنی طور پر کچھ بول نہ رہے ہوں مثال کے طور پر اس وقت جب آپ میری یہ پوسٹ پڑھ رہے ہے آپکی زبان بالکل خاموش ہے لیکن آپ اپنے خیالات میں مسلسل بول کر میری یہ پوسٹ پڑھ رہے ہے یہ جو آپ باطنی طور پر بول رہے ہے یہ آپکے خیالات کی آواز ہے جو ایک مخصوص فریکوئنسی رکھتی ہے اگر آپ کی باطنی سماعت کھل جاتی ہے تو آپ پاس بیٹھے کسی کے خیالات کی آواز بھی سن سکتے ہے وہ باطنی طور پر کیا بول رہا ہے آپ اپنی باطنی سماعت سے اسے سن سکتے ہے جسے ٹیلی پیتھی کی زبان میں مائنڈ ریڈنگ کہتے ہے ۔۔
اب ہم مراقبہ کشف سمعی کے طریقہ کار کی طرف آتے ہے
طریقہ کچھ یوں ہے کہ
آپ نے کوئی ایسی جگہ ڈھونڈنی ہے جہاں بالکل خاموشی ہوں جہاں کسی بھی قسم کا شور نہ ہو بالکل خاموشی ہو یاد رکھیں اس مراقبہ کے لیے خاموشی والی جگہ بہت ضروری ہے پھر آپ نے اس جگہ بیٹھ جانا ہے چوکڑی مار کر بیٹھ جائے اب آپ نے کسی چیز سے اپنے کان بند کر لینے ہے تا کہ سو فصد خاموشی ہو جائے کان آپ کسی بھی چیز سے بند کر سکتے ہے جس میں ایئر پلگ بھی لگا سکتے ہے یا صوفے والی ہینڈ فری سے بھی کان بند کیے جا سکتے ہے یا اس طرح کریں کہ روئی کا ایک ٹکڑا لیں اسکو پانی سے گیلا کر لے پھر پانی نچوڑ دیں اور اس روئی کو گول مول کر کے اچھی طرح کانوں میں پھنسا لیں تا کہ باہر کی کوئی آواز نہ آئے روئی آپ اپنے گھر کی رضائیوں سے نکال سکتے ہے خیر مقصد کان بند کرنا ہے کسی بھی طرح کان بند کرے لیکن انگلیوں سے آپ نے کان بند نہیں کرنے
خیر جب آپ ایک خاموشی والی جگہ بیٹھ گئے کان بھی بند کر لیے اب آپکو اپنے دماغ کے اندر سے ایک خاص قسم کی آواز سنائی دے گی جو کہ سیٹی کی آواز یا جھینگر کی آواز سے ملتی جلتی ہوگی اس طرح کی جو بھی آواز آئے یاد رکھیں وہ آواز آپ کے اپنے دماغ کے اندر سے آ رہی ہے کہیں باہر سے نہیں آ رہی کیونکہ ویسے بھی آپ خاموشی والی جگہ بیٹھے ہوئے ہے مزید آپکے کان بھی بند ہے تو اب جو آواز آ رہی ہے وہ صرف آپکے اندر سے آ رہی ہے اب جو بھی آواز آپکو سنائی دے رہی ہے آپ نے اپنا سارا دھیان اس آواز پر لگا دینا ہے اور اپنی پوری توجہ سے اس آواز کو سنتے رہنا ہے یہی مراقبہ ہے جن میں یکسوئی نہیں ہوگی ہو سکتا انکو پہلے چند دن کوئی آواز نہ سنائی دے لیکن آپ نے اس آواز کی طرف دھیان لگائے رکھنا ہے آواز لازمی سنائی دینا شروع ہو جائے گی اسکو آپ روزانہ کم سے کم ایک گھنٹہ کر سکتے ہے
شروع شروع میں آپکو آواز مدھم سنائی دے گی لیکن آہستہ آہستہ کچھ دنوں بعد جیسے جیسے آپکی یکسوئی میں اضافہ ہوگا آپکو وہ آواز واضح سنائی دینا شروع ہو جائے گی یاد رکھیں جب ہم کان بند کرتے ہے تو اس وقت ہمیں اپنے سانسوں یا دل کی دھڑکن کی آواز بھی سنائی دیتی ہے ہم نے ان آوازوں پر بالکل دھیان نہیں دینا کیونکہ یہ مادی جسم کی آوازیں ہے ہم نے اپنا دھیان اس سیٹی جیسی روحانی آواز پر دینا ہے جو ہمارے دماغ کے اندر سے آرہی ہے جیسے جیسے توجہ و یکسوئی میں اضافہ ہوگا ویسے ویسے آواز بالکل صاف واضح سنائی دینا شروع ہو جائے گی پھر مزید اس آواز کے پچھے سے ایک اور آواز سنائی دینا شروع ہو جائے گی جیسا کہ شہد کی مکھیوں کی بھنبناہٹ یا ہواؤں کے چلنے جیسی آواز وغیرہ جب ہماری توجہ اس مراقبے سے گہری ہوتی چلی جاتی ہے تو پھر آہستہ آہستہ ہمیں چند جملے یا الفاظ بھی سنائی دینا شروع ہو جاتے ہے لیکن وہ جملے یکدم سنائی دے کر پھر غائب ہو جاتے ہے پھر کچھ دیر بعد چند ایک الفاظ سنائی دیتے ہے چند سیکنڈز کے لیے اور پھر غائب ہو جاتے ہے اور واپس ہمیں دوبارہ سے سیٹی جیسی آواز سنائی دینا شروع ہو جاتی ہے لیکن جب بھی چند لمحوں کے لیے کچھ الفاظ سنائی دیتے ہے سیٹی کی آواز غائب ہو جاتی ہے پھر جیسے ہی وہ الفاظ سنائی دینا بند ہوتے ہے واپس دوبارہ سے سیٹیوں یا گھنٹیوں جیسی آواز آنے لگتی ہے پہلے پہل صرف الفاظ سنائی دے گے پھر پوری بات سنائی دیا کرے گی اس طرح آہستہ آہستہ باطنی سماعت کھلنا شروع ہو جاتی ہے
ویسے انہی آوازوں کو ساؤنڈ آف سائلنس مطلب خاموشی کی آواز بھی کہتے ہے کیونکہ جس جگہ ہر طرف مکمل خاموشی ہو وہاں کان بند کرنے سے یہ آوازیں ضرور سنائی دیتی ہے
کان بند کرنے پر سیٹی یا گھنٹیوں کی آواز پہلے ہفتے ہی سنائی دینا شروع ہو جاتی ہے اسی آواز پر فوکس کرکے ہم نے روزانہ ایک گھنٹہ مراقبہ کرنا ہوتا ہے تا ہم روحانی یا جنات یا دوسری مخلوقات یا لاشعوری آوازیں چار سے چھے مہینے بعد سنائی دینا شروع ہوتی ہے جب تھوڑی بہت باطنی سماعت کھل جاتی ہے
مزید جیسے جیسے ہمیں اس مراقبہ سے یکسوئی حاصل ہوتی جائے گی ویسے ویسے ہماری باطنی سماعت کھلتی جائے گی اور ہمیں اس مراقبہ میں نہ صرف انسانوں کی آوازیں سنائی دے گی بلکہ دوسری مخلوقات کی پراسرار آوازیں بھی سنائی دے گی جو نہایت دل فریب اور حسین بھی ہوتی ہے اتنی دلربا ہوتی ہے کہ بندہ چاہتا ہے ان آوازوں کو ہی سنتا رہوں دنیا کا کوئی میوزک اتنا دلربا اور پرکشش نہیں ہوتا جتنی وہ پراسرار آوازیں ہوتی ہے
البتہ کبھی کبھار کچھ خوفناک آوازیں بھی سنائی دے جاتی ہے جس سے انسان بعض دفعہ ڈر بھی جاتا ہے
جب انسان اس مراقبہ میں ڈوبنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ آوازوں کے پراسرار جنگل میں سفر شروع کر دیتا ہے شروع شروع میں اسے صرف اپنے لاشعوری دماغ کی آوازیں سنائی دیتی ہے کیونکہ جب سے ہم پیدا ہوئے ہے اس وقت سے لےکر اب تک جتنی بھی آوازیں ہم نے سنی ہے وہ سب آوازیں ہمارے لاشعوری دماغ میں ریکارڈ ہوتی ہے تو جیسے ہی باطنی سماعت کھلنا شروع ہوتی ہے ہم وہی اپنے ہی لاشعور کی آوازیں سنائی دینا شروع ہو جاتی ہے ان آوازوں کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ یہ محض لاشعوری آوازیں ہوتی ہے لیکن یہ اس کامیابی کی دلیل ہوتی ہے کہ ہماری باطنی سماعت کھل رہی ہے انسان جب لاشعوری آوازوں سے گزر جاتا ہے تب اسے اس کائنات میں ماضی کی بکھری ہوئی آوازیں سنائی دیتی ہے پرانے دور کے لوگوں کی آوازیں انکی زبان
میں خود کشف سمعی جنگل میں جا کر کرتا تھا روزانہ تین گھنٹے کیونکہ شہر میں خاموشی نہیں ملتی تھی اور مجھے دوران مشق انتہائی عجیب و غریب کبھی دل کو لبھانے والی کبھی دل کو ڈرانے والی آوازیں سنائی دیتی مجھے ماضی کے کچھ میوزک بھی سنائی دیتے ایک دفعہ میں مشق کر رہا تھا کہ اچانک مجھے ھو کی آواز آئی اور وہ آواز اتنی بھاری آواز تھی کہ میں اچانک ڈر کر مراقبہ سے باہر آ گیا اسی طرح کا ایک مشاہدہ میں نے ایک پوسٹ میں بیان کیا ہوا ہے جس میں مجھے دوران مراقبہ کچھ ماضی کی آوازیں سنائی دی
اسی طرح پھر دوسری مخلوقات کی آوازیں پھر جب بندہ ان سب سے بھی گزر جاتا ہے پھر انسان اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی دوسرے انسان کے خیال کی آواز بھی سن سکے جسے ماینڈ ریڈنگ کہتے ہے
شروع شروع میں صرف آواز سنائی دیتی ہے پھر آواز کے ساتھ مختلف روشنیاں اور مناظر بھی بند آنکھوں میں نظر آنے لگتے ہے بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک کان سے ایک آواز آ رہی جبکہ دوسرے کان سے کوئی اور آواز
اصل میں یہ آوازیں ہمیں کان سے نہیں بلکہ دماغ سے سنائی دے رہی ہوتی ہے چونکہ دایاں دماغ اور بایاں دماغ الگ ہے اس لیے بعض دفعہ آوازیں جدا سنائی دیتی ہے ایسا کبھی کبھار ہی ہوتا ہے اکثر دونوں طرف سے ایک جیسی ہی آواز سنائی دیتی ہے
انہی کائنات میں بکھری آوازوں میں ایک اوم کی آواز بھی ہوتی ہے صوفیا کرام اور دوسرے مذاہب کے بزرگوں کا خیال ہے کہ اس کائنات میں ایک اوم کی آواز ہر وقت گردش کرتی رہتی ہے جو دوران مراقبہ سنائی دیتی ہے ماضی کے ہندو یوگیوں نے جب سالہاسال مراقبے سے اپنی باطنی سماعت کھولی تو انہوں نے اس اوم کی آواز کو سنا تو انہوں نے اسی اوم کی آواز کو اپنے خاص منتر میں شامل کر لیا جس سے اکثر لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہے کہ اوم ہندوں کا منتر ہے حالانکہ اوم ایک آکاشوانی صدا ہے جسے ہندو مذاہب نے وہاں سے سن کر اپنا خاص منتر اوم تیار کر لیا جس سے وہ اپنی باطنی آنکھ بھی کھولتے ہے اب اوم ہندوں کا منتر بعد میں بنا اس سے پہلے وہ اوم کی صدا ایک آکاشوانی صدا ہے
کچھ دن پہلے میرے ایک عزیز شاگرد علی سراج نے اپنا ایک مشاہدہ بیان کیا جس میں انکو اوم کی آواز سنائی دینا شروع ہوگی اور نیچے کمنٹ میں کچھ دوست نے اس پر کفر کے فتوے لگا دیے حد ہے ویسے ان دوستوں کے ذہنوں پر کسی پر بھی کفر کا فتوی لگا دیتے ہے بھائی اوم آواز کی کم سے کم پہلے تحقیق تو کر لیتے فتوی لگانے والوں کو اوم لفظ کے مطلب کا بھی پتہ نہیں ہوگا بس انہوں نے اسے ہندوں کا منتر سمجھ رکھا ہے او بھائی اوم ایک کائناتی آواز ہے جس کا کسی مذہب کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور اوم میں ایسا کوئی شرکیہ کلمہ بھی نہیں ہے جس سے کفر کا فتوی لگایا جا سکے یہ تو بات وہی ہوئی جس طرح ایک عورت کے کپڑوں پر عربی زبان میں لفظ حلوہ لکھا تھا اور اس پر کفر کے فتوی لگا دیے کہ یہ قرآن کی آیت لکھی ہے عجیب ہے ویسے لوگ ایک منٹ میں کسی کو بھی دائرہ اسلام سے خارج کر دیتے ہے اور تحقیق بھی نہیں کرتے اگر یہی آپکے نزدیک کفر ہے تو سب سے پہلے اپنے موبائل سے فیس بک ڈیلیٹ کرے جس پر آپ یہ پوسٹ پڑھ رہے ہے کیونکہ فیس بک ایک غیر مسلم کی ایجاد ہۓ اسکے بعد اپنا موبائل بھی توڑ دے کیونکہ یہ بھی ایک غیر مسلم کی ایجاد ہے اس لحاظ سے آپ موبائل استعمال کر کے شرک یا کفر کر رہے ہے
امید ہے مراقبہ کشف سمعی آپکو سمجھ آ گیا ہوگا اسی کو شغل صوت سرمدی بھی کہتے ہے مراقبہ کشف سمعی پر آج سے چار سال پہلے میں نے اپنے یوٹیوب چینل پر اسکی ویڈیو ڈالی ہوئی ہے تو فیس بک کے شوقین حضرات کے لیے بھی آج پوسٹ میں اسکی وضاحت کردی
تاہم بعض لوگ جن کو قدرتی طور پر اونچا سنتا ہے انکو سیٹی وغیرہ کی آواز ہر وقت آتی رہتی ہے جسے وہ ایک بیماری ٹائی ٹینس کہتے ہے انہیں اپنا علاج کروانا چاہیے تاہم اگر وہ اس آواز کی مدد سے روحانی آوازیں سننا چاہتے ہے تب انہیں اس آواز پر مسلسل پورے دھیان توجہ کے ساتھ روزانہ مراقبہ کرنا ہوگا
پوسٹ کے متعلق کوئی بھی سوال ہو کمنٹ کرے
نوٹ ۔۔
اگر اس مراقبہ کشف سمعی کرنے کے بعد آپکا سر بھاری ہو رہا ہے یا سر درد یا بے چینی یا کمزوری وغیرہ محسوس ہو رہی ہے تو اس مراقبہ کو ہر گز نہ کرے یہ مراقبہ آپ چھوڑ دے کیونکہ یہ ایک ہائی لیول کا۔مراقبہ ہے یہ پھر آپکے قابل نہیں ہے
یا جگہ بدل کر کرے کیونکہ یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جس جگہ بندہ مراقبہ کر رہا ہے وہاں اگر جھنگروں یا ٹڈیوں جیسے کیڑے مکوڑوں کا شور بہت ہو تو انکی آواز سننے سے انسانی دماغ کی ایسی حالت ہوتی ہے اس لیے جس جگہ مراقبہ کر رہے وہاں خاص خیال رکھے کہ جھینگروں کی آواز وہاں بالکل نہ ہو
اگر آپکو اس مراقبہ سے بے انتہا روحانی سکون محسوس ہوتا ہے اور کوئی کمزوری سر درد بے چینی محسوس نہیں ہوتی تو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ مراقبہ جاری رکھ سکتے ہے کیونکہ جس جگہ آپ مراقبہ کر رہے ہے وہاں جھینگروں یا ٹڈیوں کا کوئی شور نہیں ہے اس چیز کا خاص خیال رکھے یہ چند ایک چیزیں آپکو اپنے ذاتی تجربے سے بتائی ہے
May be an image of ‎1 person and ‎text that says "‎Spiritual Sounds آوازیں روحانی‎"‎‎
All reactions:
235

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

اپنے آپ کو تنویم زدہ کرنا (Hypnotized)