شعور کا نقشہ


شعور کا نقشہ
ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز معروف ماہر نفسیات، طبیب، مقرر اور روحانی استاد گزرا ہے۔ اس نے زندگی کا طویل عرصہ تحقیق وتصنیف میں گزارا اور روحانیت، سکون اور انسانی شعورکے موضوع پر شان دار خدمات سرانجام دیں۔ ویسے تو دنیا کے ہر مذہب میں روحانیت کاشعبہ موجود ہے لیکن یہ جاننا مشکل تھا کہ کوئی شخص روحانیت کے کس درجے پر فائز ہے۔ ہر مذہب کے پیشوا، گرو، صوفی او ربابے اس موضوع پر بات کرتے ہیں لیکن ایسا کوئی سائنسی طریقہ کار موجود نہیں تھا جس کی بدولت یہ جان لیا جاتا کہ فرد اس وقت روحانیت کے کس مرحلے پر موجود ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز نے یہ کمال کر دکھایا۔ اس نے 1995میں Power vs Force کے نام سے ایک کتاب لکھی اور اس میں Map of Consciousness کا نظریہ پیش کیا۔ ڈاکٹر ہاکنز نے اس موضوع پر 25سال تحقیق کی۔ وہ جیل کے قیدیوں، کھلاڑیوں، منشیات استعمال کرنے والے لوگوں، کامیاب شخصیات، صوفیوں، پنڈتوں، تاجروں، سپاہیوں، طلبہ اور مزدوروں سے ملاا ور ان کے شعوری سطح سمجھنے کی کوشش کی۔ اس نے Map of Consciousness کے ذریعے واضح کیا کہ ہر انسان شعورکے ایک خاص مرحلے پر ہوتا ہے اور اسی (منفی، مثبت) سوچ کے ساتھ وہ خود کو، کائنات کو، انسانوں کو اور حتیٰ کہ اپنے رب کو دیکھتا ہے ۔ڈیوڈ ہاکنز نے شعور کو 16مرحلوں میں تقسیم کیا اور انھیں نمبر بھی دیے تاکہ فرد آسانی کے ساتھ اپنی کیفیت جان سکے اور خود کو اگلے مرحلے پر منتقل کرسکے۔ Map of Consciousness کے مطابق انسان شعورکے مراحل میں جس قدر بلند مرحلے پرہوتا ہے، اس کی توانائی کی لہریں بھی اتنی مضبوط ہوتی ہیں جو کہ اردگرد کے ماحول پر مثبت اثرات ڈالتی ہیں۔ اس کے برعکس کوئی شخص جس قدر نچلی سطح پر ہوتا ہے اس کے اثرات بھی اسی قدر کمزور اور منفی ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز کے ”اختیار“ اور”جبر“ والے اس منفرد فلسفے کو بھرپور پذیرائی ملی اور اس کی بدولت انسانوں کو تعلیم، کاروبار، نفسیات، طب، قانون اور بین الاقوامی تعلقات جیسے شعبوں کو بہتر بنانے میں کافی مدد ملی۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ہاکنز کو آکسفورڈ یونی ورسٹی، نوٹری ڈیم یونی ورسٹی،مشی گن یونی ورسٹی، یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا اور اگاپے روحانی مرکز (لاس اینجلس) جیسے بڑے اداروں میں گفت گو کے لیے مدعو کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کینیڈا، میکسیکو، انڈیا، جنوبی کوریا، جرمنی، انگلینڈ، آئرلینڈ، جاپان اور دبئی میں بھی اس نے ہزاروں لوگوں سے خطاب کیا اور انھیں شعور کے متعلق رہنمائی فراہم کی۔ ان شان دار خدمات کی بدولت اسے کئی اعزازات سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر ہاکنز انسانوں میں ہمدردی، مہربانی، عاجزی اور معافی جیسی صفات پیدا کرنے کے لیے کوشاں تھا کیوں کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ روشن خیالی کا ایسا راستہ ہے جس پر چل کر انسان مطمئن رہ سکتا ہے اور دنیا کو بھی پرسکون بناسکتا ہے۔ ڈاکٹر ہاکنز کا کہنا ہے کہ ہم دنیا کو اپنے کہنے یا کرنے سے نہیں بلکہ جو کچھ ہم بن چکے ہیں، اس نتیجے سے بدلتے ہیں۔
Map of Consciousness
کو ہم پانی کی مثال سے بآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ پانی اگر 100درجہ حرارت پر ہو تو وہ اُبلنا شروع ہوجاتا ہے اور بخارات کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس پانی کو اگر آپ صفر درجہ حرارت میں رکھ دیں تو یہ برف بن جاتاہے۔ پانی ایک ہے لیکن مختلف ماحول میں اس کی مختلف شکلیں بن جاتی ہیں۔اس طرح انسانی شعور کی بھی مختلف شکلیں ہیں۔ہم دوسرے انسانوں سے اپنی سوچ کی بدولت مختلف ہیں۔آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ بعض اوقات ہم کسی فرد کے ساتھ بیٹھتے ہیں لیکن بہت جلد بیزار ہوجاتے ہیں۔دراصل وہ شخص اس وقت جس شعوری سطح پر ہوتاہے، وہ ہماری شعوری سطح سے موافقت نہیں رکھتا۔اسی طرح ہم کسی فرد کے ساتھ بیٹھتے ہیں اور بات چیت میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہیں کہ گھنٹوں گزرجاتے ہیں۔اس کی وجہ بھی شعوری سطح ہوتی ہے جو اس شخص کے ساتھ مطابقت کررہی ہوتی ہے۔
زندگی میں ہم شعور کے ان تمام مراحل سے گزرتے ہیں لیکن جس مرحلے پر قائم رہ کر جینا شروع کردیتے ہیں اس کے اثرات ہماری زندگی پر پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ منفی احساسات کی وجہ سے مشکلات و مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور کبھی مثبت خیالات کی بدولت زندگی اتنی خوش قسمت بن جاتی ہے کہ ترقیوں کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔
آئیے اب Map of Consciousness کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
Shame:شرم(نمبر20)
یہ Map of Consciousness کا سب سے نچلا اور انتہائی خطرناک درجہ ہے۔ جب کسی شخص کو مسلسل شرم دلائی جائے، اسے طعنے مار مار کرپاگل کر دیا جائے یا ماضی کا ایسا واقعہ یاد دلایا جائے جس کی وجہ سے وہ شخص انتہائی شرمندہ ہو تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اس کیفیت میں آجاتا ہے۔ قدیم رومی حکایات میں ایک حکایت ہے کہ بادشاہ ایک شخص سے ناراض ہوگیا اور سپاہیوں کوحکم دیا کہ اسے پہاڑ سے گرا دو۔ اہلکاروں نے ایساہی کیا لیکن وہ بچ گیا، دوسری بار گرایا گیا، وہ پھر بچ نکلا۔ وہ شخص دربار میں حاضر ہوا اور بولا: ”بادشاہ سلامت! اگر مجھے قتل کرنا ہے تو پہاڑ سے نہ گرائیں، نظروں سے گرا دیں،میں خود ہی مر جاؤں گا۔ “شرم دلانا اس قدرخطرناک چیز ہے کہ اگر آپ نے کسی بچے کو بار بار شرم دلائی تو اس کی شخصیت تباہ ہوکر رہ جائے گی۔ یہ ایسی کیفیت ہے جس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایسا شخص اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے۔
Guilt:پچھتاوا (نمبر 30)
اپنی غلطیوں پر پچھتانا چاہیے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ انسان کا ضمیر زندہ ہے۔ آپ سے جب بھی کوئی غلطی سرزد ہو تو فوری طورپر معافی مانگیں، کیوں کہ اللہ کا فرمان ہے کہ میں تمام گناہوں کو بخش دیتا ہوں۔ (سورہ زمر:53) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ’گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ ‘(سنن ابن ماجہ:4250) اگر آپ کے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف پہنچی ہے تواس سے بھی فوری طورپر معافی مانگیں۔ معافی مانگنے میں مت ہچکچائیں۔ ایک دانا کا قول ہے کہ ’جب غلطی کرتے وقت شرم نہیں تھی تو معافی مانگنے میں کیسی شرم۔ ‘البتہ مسلسل پچھتاوے کی کیفیت میں رہنا ذہنی صحت کے لیے ٹھیک نہیں، اس سے انسان نااُمید ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر منفی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں اور اس کی قوت ارادی کمزور ہوجاتی ہے۔
Apathy:بے حسی (نمبر50)
یہ ایسی کیفیت ہے جس میں انسان نکما بن جاتا ہے۔ وہ کام کرنا پسند نہیں کرتا اور دوسروں کے خرچے پر پلنا چاہتا ہے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو دوسرو ں کو بدلنا چاہتے ہیں لیکن خود کو نہیں بدلتے۔ یہ اپنی توانائی کو کام میں نہیں لاتے جو پریشر ککرکی گیس کی طرح جمع ہوتے ہوتے ایک دن پھٹ جاتی ہے۔ یہ لوگ اگر سست ہیں توبے کار پڑے رہتے ہیں اور متحرک ہیں تو غصہ کی حالت میں ہوتے ہیں۔ یہ لوگ نفع نقصان او رحساب کتاب کے معاملے میں بعض اوقات جرم بھی کر ڈالتے ہیں۔ اس کیفیت میں انسان کی زندگی روز بروز غیر موثر اوربے مقصد ہوتی جاتی ہے۔اس حالت سے جلداز جلد نکلنا چاہیے۔
Grief:غم (نمبر75)
ہماری زندگی میں انجام پانے والے کام دوطرح کے ہوتے ہیں۔ کبھی یہ ہماری خواہش کے مطابق ہوتے ہیں، کبھی اللہ کی مرضی کے مطابق جب انسان کی خواہش پوری نہ ہو تو وہ غمگین ہوجاتا ہے۔اب جو عقل مند ہے وہ اس کیفیت پر قابو پاتا ہے اور اُداسی کے باوجود رب کی رضا پر راضی رہتا ہے۔ غم کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی پرتیں کھولتا ہے اور کچھ عرصہ بعد انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں میرے لیے خیر تھی۔ واصف علی واصف کا جملہ ہے کہ”غم چھوٹے انسان کو کھا جاتا ہے، بڑے انسان کو بناجاتا ہے۔“غم کو کسی کھونٹے سے باندھنا ضروری ہے، اسے کھلا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جیسے پانی کے بہاؤ پر اگربند باندھ دیاجائے تو اس سے ڈیم بن جاتا ہے جو بجلی پیدا کرتا ہے اور اگرپانی کے آگے بند نہ ہو تو وہ سیلاب بن کر بستیاں اجاڑ دیتا ہے۔ اسی طرح غم کے آگے بھی اگربند نہ باندھا جائے تو انسان کو بہالے جاتا ہے۔
Fear:خوف (نمبر100)
آپ زندگی میں نیا قدم اٹھانا چاہتے ہیں لیکن دل میں موجود اندیشہ اس قدر مضبوط ہے کہ وہ آپ کو روک رہا ہے۔ اسے خوف کہتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے آپ نے گاڑی سٹارٹ کرکے گیئر میں ڈال دی اور فوراً ہینڈ بریک بھی کھینچ دی۔ اب آپ ایکسیلریٹر دباتے جائیں، گاڑی آگے نہیں بڑھے گی۔ خوف بھی آپ کی زندگی کی گاڑی میں ہینڈ بریک کا کردار ادا کرتا ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ یہ کام ہوسکتا ہے لیکن دوسری طرف سے آواز آتی ہے کہ ”نہیں ہوسکتا“۔دوسرا خیال اس قدر مضبوط ہوتا ہے کہ آ پ کو قدم اٹھانے نہیں دیتا۔ المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں جو لوگ خوف کا شکار ہیں وہ دوسروں میں بھی خوف پیدا کر رہے ہیں۔ خوف سے آزاد ہونے کا سب سے بہترین طریقہ توکل ہے۔ جو شخص خوف کا حجم چھوٹا کرکے اپنے یقین کو بڑا کردے تو وہ ڈرکے چنگل سے آزاد ہوجاتا ہے۔ مثبت سوچ والے انسان کے سامنے بے شمار مواقع ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کی زندگی امکانات سے بھرپور ہوتی ہے۔
Desire:خواہش(نمبر125)
خواہش کا مطلب ہے اپنی مرضی کے مطابق قدم اٹھاکر نتیجہ حاصل کرنا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ بہادر انسان ہیں۔ انسان کی زندگی میں خواہش بھرپور اہمیت رکھتی ہے۔اگر اسے ختم کردیا جائے تو انسان جینا چھوڑ دیتا ہے۔ میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملا ہوں جن کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی۔ ان سب کے اندر قدر مشترک یہ تھی کہ انھوں نے اپنی خواہش کو مرنے نہیں دیا۔ یہ لوگ فکرمندیاں نہیں پالتے اور نہ ہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔ یہ اپنے حصے کی محنت کرتے ہیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو ہر وقت متفکر رہتے ہیں اور کڑھتے رہتے ہیں ان کی عمر کم ہوتی ہے۔ اپنے دائرہ اختیار سے باہر والے کاموں کو اللہ کی ذات پر چھوڑ دینا ایسا عمل ہے جس کی بدولت انسان پرسکون ہوجاتا ہے اور اس کی ذہنی صحت بھی بہتر ہوتی ہے ۔یاد رکھیں کہ خواہش چھوٹے بچے کی طرح ہے جسے پالنا اور سنوارنا پڑتا ہے۔ جب یہ جوان ہوجائے تو جنون کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور انسان کے اندر اتنی توانائی پیدا کر دیتی ہے کہ وہ محنت کرتا ہے اور بڑے سے بڑ اہدف بھی حاصل کرلیتا ہے۔
Anger:غصہ (نمبر150)
غصہ ایسا جذبہ ہے جس میں تعمیر اور تخریب کی طاقت پائی جاتی ہے۔ یہ ایسی کیفیت ہے جس میں عقل ماؤف ہو جاتی ہے اور انسان دوسروں کوقتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ بڑے بڑے خاندان اسی وجہ سے اجڑے، طلاق کے اکثر واقعات اسی وجہ سے رونما ہوئے۔ مجھے بے شمار مرتبہ جیل کی قیدیوں سے گفت گو کرنے کا موقع ملا۔ ان میں سب سے زیادہ پشیمان میں نے قتل کرنے والوں کو دیکھا۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے چند منٹ کے غصے پر قابو نہیں پایا اور اب عمر بھر کے لیے پشیمانی کی بھٹی میں جل رہے تھے۔ انسان جب چالیس سال کی عمر میں پہنچتا ہے تو اس کے چہرے پر وہ علامات پیدا ہوتی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اس نے پچھلی زندگی کیسی گزاری ہے۔ غصیلے اور جھگڑالو شخص کے چہرے پر منفی اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
Pride:فخر (نمبر175)
یہ ایسا جذبہ ہے جو مثبت بھی ہے اور منفی بھی۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اسے کس چیز سے جوڑتے ہیں۔ بعض لوگوں کا فخر مادی چیزوں سے جڑا ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو اپنا قیمتی لباس، گھڑی، موبائل اور گاڑی دکھا کر خوش ہوتے ہیں جب کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے عہدے، طاقت اور مادی چیزوں کی نمائش نہیں کرتے۔ وہ بلند مقام پر پہنچ کر بھی عاجزی اختیار کرتے ہیں اور دکھاوے سے پرہیز کرتے ہیں۔ درحقیقت یہی لوگ کام یاب ہیں اور ان کی زندگی سکون سے بھرپور ہوتی ہے۔ مادی چیزوں پر فخر کرنے والے لوگ اسی بنیاد پر خوش ہوتے ہیں، اسی پر خفا ہوتے ہیں اور اسی پر دوسروں کے ساتھ تعلق رکھتے یا ختم کرتے ہیں۔ ان کی زندگی بے سکونی کا شکار ہوتی ہے۔
Courage
جرات (نمبر:200)
جرات کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کا خوف بالکل ختم ہو جائے بلکہ ڈر، اندیشے اور وسوسے کے باوجود بھی نیا قدم اٹھانا جرات کہلاتا ہے۔ ایسا انسان جو اپنی ذات کی قید میں تھا، اس نے تمام سلاخیں توڑیں اورخود کو آزاد کرلیا۔ قدر ت نے کچھ لوگوں کو بے پناہ جرات سے نوازا ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں مختلف طرح کے ایڈونچرز کرتے ہیں۔ وہ اسکو باڈائیونگ، پیراگلائیڈنگ اوررافٹنگ جیسے خطرناک کاموں سے بھی باز نہیں آتے۔ دراصل ان کاموں کے دوران دماغ مخصوص قسم کا کیمیکل خارج کرتا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کوخوشی ملتی ہے۔ ایسے لوگ زندگی میں ہلکی پھلکی شرارتوں سے دوسروں کو لطف اندوز کرتے ہیں۔ ان تمام طرح کے تجربات کا مزہ وہی شخص لے سکتا ہے جوتوانائی کی 200 نمبر سطح پر جی رہا ہوتا ہے۔ نیا قدم اٹھانے کے لیے جرات ضروری ہے، اگر کسی انسان میں جرات نہیں ہے تو اس کی تعلیم اور ڈگری کا فائدہ نہیں۔جب ایک بار آپ ڈر کا خول توڑ کر نیا قدم اٹھانے کی جرات کرلیتے ہیں تو خوف کا حجم خود بخود کم ہو جاتا ہے اور آپ کے لیے آگے بڑھنا آسان ہوجاتا ہے۔
Neutrality
غیر جانب داری (نمبر:250)
یاد رکھیں کہ جو انسان نفرت اور تعصب کا شکار ہو اس کی توانائی کی سطح انتہائی کمزور ہوتی ہے۔ غیر جانب دار وہ ہے جو قوم، مسلک، مذہب اور زبان کے تعصب سے آزاد ہوجائے اور ہر انسان کو اہم سمجھے۔ ہماراالمیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے ذات برادری اور فرقے کو اپنا فخر سمجھ لیا ہے اور جو شخص ہمارا مخالف ہے اس سے ہم نفرت کرتے ہیں اور اسے برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے عدم برداشت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے اور دنگا فساد شروع ہوجاتاہے۔ Neutrality وہ مرحلہ ہے جس میں آپ ہر طرح کے تعصب سے آزاد ہوجاتے ہیں اور آپ لوگوں سے اپنی پسند ناپسند کی بنیاد پر نفرت نہیں کرتے بلکہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ”تم میں زیادہ فضیلت والا وہ ہے جوزیادہ تقویٰ والاہے۔“اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ ”جوانسان جتنا زیادہ ذمہ دار ہے، اتنا ہی وہ قیمتی ہے۔“جس سے ثابت ہوتا ہے کہ فضیلت اور قیمتی ہونے کا معیار قومیت اور مسلک نہیں ہے بلکہ عمل ہے۔ اگر آپ نے زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو خود کو تعصب سے آزاد کردیں، کسی انسان سے اس لیے نفرت نہ کریں کہ اس کی زبان اورمذہب آ پ سے مختلف ہے۔ ہر انسان قیمتی ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔
Willingness
رضامندی (نمبر:310)
زندگی میں راضی رہنا بہت ضروری ہے۔ امید اور مایوسی ہر انسان کی زندگی میں آتی ہے، البتہ وہ ان دونوں میں جس چیز پر زیادہ توجہ دیتا ہے وہ بڑھنا شروع ہوجاتی ہے۔ آفاقی قانون ہے کہ رہنمائی اور لائحہ عمل کے ساتھ محنت کی جائے توانسان کو بہترین نتیجہ ملتا ہے۔ اگر کسی شخص نے اس اصول کے تمام اجزا پر عمل نہیں کیا جس کی وجہ سے اسے نتیجہ نہیں ملا اور اس تلخ تجربے کو اس نے زندگی کا اصول بنالیا کہ محنت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ اس کا نتیجہ نہیں ملتا، یا اسے کسی نے دھوکا دے دیا اور اس نے اصول بنالیا کہ انسان اعتماد کے قابل نہیں ہے تویہ چیز اس کے لیے نقصان کاباعث بنے گی۔ دراصل تلخ تجربات کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو تیار کرتا ہے پھر اسے مواقع دیتا ہے تاکہ وہ چیزوں کو اچھی طرح سمجھ جائے، اسے مہارت حاصل ہوجائے اور بدلے میں اسے شان دارنتائج مل جائیں۔ طارق بلوچ صحرائی صاحب کہتے ہیں ”فطرت کی رفتار صبر ہے۔ “ہمیں فطرت کے اصولوں پر رضامند اور ان پر عمل پیرا ہونا چاہیے تب ہی ہمارے لیے مواقع پیدا ہوں گے اور ہم آگے بڑھ سکیں گے۔
Acceptance
تسلیم کرنا (نمبر:350)
انسانی دماغ ہر چیز میں حساب کتاب کرتا ہے اور جب ایسے حالات پیش آجائیں جو ہماری مرضی کے مطابق نہ ہوں تو وہ انھیں قبول نہیں کرتا، لیکن یہ رویہ ٹھیک نہیں، قبول کرنا ہی عقل مندی ہے، کیوں کہ اگر ہم قبول نہیں کریں گے تو اس میں ہمارا نقصان ہے۔ کچھ عرصہ پہلے میرے پاس ایک خاتون آئی جو شوہر کی دوسری شادی کی وجہ سے کافی پریشان تھی۔ میں نے کہا، آپ اس چیز کو قبول کریں۔ اس نے کہا، میں نہیں کرسکتی۔ میں نے جواب دیا: پھر آپ شوہر کو چھوڑ دیں۔ وہ بولی: ”ایسا تو بالکل نہیں کرسکتی۔ ان حالات کی وجہ سے کبھی میں انتہائی مایوس ہوجاتی ہوں، کبھی میرے اندر حوصلہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن کچھ دیر بعد پھر ختم ہوجاتا ہے، جب کہ کبھی کبھار میں انتہائی پچھتاوے میں چلی جاتی ہوں۔“ میں نے عرض کیا:”محترمہ! آپ اپنے ساتھ ظلم کررہی ہیں۔ اس کیفیت میں آپ بہت جلد نفسیاتی مریضہ بن جائیں گی۔ اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ آپ ان حالات کو قبول کریں اور آگے بڑھنے کا سوچیں۔ “تسلیم نہ کرنے کا بڑ انقصان یہ ہے کہ اس سے دماغ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، جس کے بعد ہم اس صورت حال کے مطابق نیا نہیں سوچ سکتے۔ اس کے برعکس جو شخص ہر قسم کے حالات کو قبول کرتا ہے وہ ذہنی طورپر زیادہ صحت مند رہتا ہے اور اسی کی بدولت اپنے لیے بہترین راستے نکالتا ہے۔ ہم اگر دین اسلام کی تعلیمات کا جائزہ لیں تو وہ بھی ہرحالت میں راضی رہنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ایمان کی ابتداہی تسلیم کرنے سے ہوتی ہے، اسی طرح اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ ہمیں جو نقصان ملا ہم اس پر راضی ہیں اور ہم نے اپنے رب کی طرف لوٹ جانا ہے۔
Reason
منطق (نمبر:400)
اس مرحلے میں انسان ہر چیز منطق کی بنیاد پر پرکھتا ہے۔ ٹھوس دلیل موجود ہوتو ٹھیک ورنہ وہ بغیر دلیل کسی بھی چیز کو نہیں مانتا۔ ایسے انسان کی دلیل اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ اس کے تمام خوف و اندیشے ختم ہوجاتے ہیں۔ شخصیت سازی کے شعبے میں ڈیل کارنیگی کا نام سنہری حروف سے لکھا جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ”انسان کے 99 فی صدخدشات خیالی ہوتے ہیں، ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ وہ انھیں سوچ سوچ کر اتنا بڑا بنا دیتا ہے کہ ان کے حصار میں گرفتار ہوجاتا ہے اور کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا۔ “ایک جوان کو آسٹریلیا میں نوکری مل گئی، ویزہ بھی لگ گیا لیکن وہ جہاز میں بیٹھنے سے اس قدر خوف زدہ تھا کہ اس قدر بہترین موقع پانے کے باوجود آسٹریلیا جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔ میں نے اس کی کاؤنسلنگ کی اور اس کے سامنے فضائی حادثات کے تمام اعداد و شمار رکھے۔ میں نے بتایاکہ جہاز گرنے کے واقعات کی شرح 0.000001 فی صد ہے جب کہ اس کے مقابلے میں ٹرین، گاڑی اور موٹرسائیکل کے حادثات کی شرح کا فی زیادہ ہے۔ آپ جہاز میں بیٹھنے سے گھبراتے ہیں جب کہ گاڑی، جس کے حادثے کا امکان جہاز سے کئی گنا زیادہ ہے، میں روز سفر کرتے ہیں۔ اگر حادثے سے بچنا ہے تو پھر آپ کو گاڑی، ٹرین اور موٹرسائیکل میں بالکل نہیں بیٹھنا چاہیے۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی۔ اس کے دل سے خوف اترگیا اوردو دن بعد وہ جہاز میں بیٹھ کر آسٹریلیا جارہا تھا۔ جب انسان کی دلیل کمزور ہو تو وہ مختلف اندیشوں میں گھر جاتا ہے۔ ذہنی طورپر صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان ہر چیز کو ٹھوس حقائق کی روشنی میں دیکھے، فرضی خیالات اور من گھڑت واقعات ذہن سے اتار دیں وگرنہ یہ آپ کی ہمت توڑ دیں گے۔
Love
محبت (نمبر:500)
یہ انتہائی شان دار مرحلہ ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان سراپا محبت بن جاتا ہے اور اس کے اندر اس قدر محبت بھرجاتی ہے کہ بانٹنے کے باجود ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہر ایک کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہے، ہر ایک کو دعا دیتا ہے اور اس کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ ”اگر تم کچھ نہیں کرسکتے تو صرف محبت کرلو۔“اس مقام پر آکر انسان کا ظرف بڑا ہوجاتا ہے۔ دنیاوی محبت میں انسان اپنے محبوب کو اپنی ذات تک محدود رکھنا چاہتا ہے اور کوئی دوسرا شخص اس سے محبت کرے تو وہ اسے اپنا رقیب بنالیتا ہے لیکن اس مرحلے پر رقابت کا تصور ختم ہوجاتا ہے۔ جس طرح آپ اپنے روحانی مرشد کے لیے سوچتے ہیں کہ تمام لوگ اس کی عزت کریں۔ جیسے آپ بچے کے لیے چاہتے ہیں کہ میری طرح باقی لو گ بھی اس سے محبت کریں، ایسا ہی اس مرحلے پر آپ چاہتے ہیں کہ آپ جس سے محبت کرتے ہیں، تمام انسان بھی اس سے محبت کریں۔ اس مقام پر آکر انسان نفع و نقصان کی قید سے آزاد ہوجاتا ہے اور بدلے میں اسے بھی بھرپور محبت ملتی ہے۔
Joy
سرشاری (نمبر:540)
یہ سرمستی کا ایسا مرحلہ ہے جس میں انسان سب چیزوں سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ آپ نے مولانا رومیؒ کے درویشوں کو چکر لگاتے دیکھا ہوگا، وہ بھی اسی سرشاری کی کیفیت میں ہوتے ہیں۔ وہ چاروں طرف گھومتے ہیں اور اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ محبوب صرف ایک جانب نہیں بلکہ چاروں طرف ہے۔ ہمارے ہاں جو مقامی دھمال کی روایت ہے، اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ذا ت کی نفی کا اظہار ہے، کیوں کہ بعض اوقات انسان اپنے نفس کو اِلٰہ بنالیتا ہے، اسی وجہ سے لااِلٰہ الا اللہ پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جب آپ کو معلوم ہوجائے کہ خزانہ باہر نہیں میرے اندر ہے تو اس خوشی پر آپ ضرور جھوم اٹھیں گے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ دنیا تو محض کھیل تماشا ہے، میں کل آیا تھا، پرسوں جانا ہے تو دو دن کے اس میلے سے لطف کیوں نہ اٹھاؤں۔ دنیا میں نورانیت سے بھرپور چہرے والے لوگ بہت کم ہیں۔ ان کے دل میں ہر وقت سرشاری کی موسیقی بج رہی ہوتی ہے، جس کا اظہار ان کے چہرے سے ہوتا ہے۔ joy کے مرحلے پر آکر آپ چیزوں کی پروا کرنا چھوڑ دیتے ہیں، آپ غم، دکھ اور فکر سے آزاد ہوجاتے ہیں اور اپنی سرمستی میں زندگی گزارتے ہیں۔
Peace
امن (نمبر:600)
یہ سکون اور اطمینان قلب کا مرحلہ ہے۔ قرآن کریم میں اس کے لیے نفس مطمئنہ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے۔ آپ نے سنا ہوگا کہ کوئی درویش روحانی چلہ کاٹ رہا تھا اور اس دوران پرندے نے اس کے کندھوں پر گھونسلا بنادیا۔ یہ ان کی روحانی مقناطیسیت ہے۔ وہ اس قدر سکون سے بھرجاتے ہیں کہ ان کی ذات سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھ کر انسان کو یقین ہوتا ہے کہ یہ شخص مجھے نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ اس کے اردگرد امن و سکون نازل ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص سکون سے محروم ہو وہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے اور یہ چیز اسے عدم اعتماد کی طرف لے جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ کسی پر بھروسا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ ہم ایک دوسرے سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ پرسکون اور خوش حال زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر امن و سکون پیدا کرلے اور دوسروں کو بھرپور تحفظ کا احساس دے۔
Enlightenment
بصیرت (نمبر700-100)

انسان جب نیندمیں ہو تو وہ خود سے بے خبر ہوتا ہے۔ جب جاگ جائے تو وہ شعوری طورپر چیزوں کو دیکھنے لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ جاگنا بھی مکمل بیداری نہیں ہے بلکہ نیند سے اوپر درجے کی کیفیت ہے۔ اس حالت میں انسان سمجھتا ہے کہ میں اپنے اختیار سے ہاتھ پاؤں استعمال کر رہا ہوں لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ کسی بیرونی عمل کے ردعمل میں ایسا کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جیسے آپ کان کھجاتے ہیں تو خارش آپ کو مجبور کرتی ہے۔ Enlightenment بیداری کی اس اعلیٰ کیفیت کا نام ہے جس میں آپ اپنی ذات سے الگ ہو کر اپنے افعال کا جائزہ لیتے ہیں اور اپنا محاسبہ کرتے ہیں۔ اس کیفیت میں آپ بیرونی عوامل سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ آپ کے اندر حقیقی معرفت پیدا ہوجاتی ہے جس کی بنیاد پر آپ قدم اٹھاتے ہیں۔ یہ انتہائی اعلیٰ توانائی کی سطح ہے۔ قطب، ابدال اور اولیائے کرام اس مرحلے پر ہوتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر انسان کائنات کی توانائی کے ساتھ مل جاتاہے اور اس کاا ثر ایک کروڑ لوگوں پر پڑتا ہے۔ اس کے تمام خوف و خدشے ختم ہوجاتے ہیں اور وہ اس مقام کو حاصل کرلیتا ہے جس کی بنیاد پر فرشتوں نے انسان کو سجدہ کیا تھا۔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

مراقبہ کشف سمعی اور خیال کی آواز

اپنے آپ کو تنویم زدہ کرنا (Hypnotized)