روحانیتSpirtuality
روحانیت
Spirtuality
السلام علیکم دوستو کیا حال ہے گروپ میں کافی ٹائم بعد واپسی ہو رہی ہے دیکھا کہ میرے بعد باقی سب گروپ ممبرز بھی خاموش ہے خیر سوچا آج تھوڑا فری ہوں تو روحانیت کے موضوع پر کچھ لکھوں کہ روحانیت کیا ہے
دنیا کے ہر مذاہب میں روحانیت کا تصور پایا جاتا ہے جسے انگلش میں سپرچلویٹی کہتے ہے اسی طرح اس مذہب نے روحانیت کو حاصل کرنے کے لیے مختلف اصول بنائے ہے اور دنیا کا ہر مذہب روحانیت کو صرف اپنا ورثہ وراثت سمجھتا ہے اور ہر مذہب میں روحانیت کے مختلف معنی لیے جاتے ہے جیسا کہ ہمارے اسلام میں روحانیت سے مراد عشق الہی اللہ اور اسکے رسول کی محبت کے معنی لیے جاتے ہے میرے خیال میں روحانیت کی بجائے تصوف کا لفظ زیادہ موضوع ہے کیونکہ تصوف خالص اللہ اور اسکے رسول کی محبت اور قرب الہی کی منازل طے کرنے میں آ جاتا ہے
چلیں خیر روحانیت کی طرف آتے ہے روحانیت لفظ روح سے نکلتا ہے جس میں جتنی بھی انسان کی اپنی روحانی صلاحتیں ہے جو انسان مراقبہ سے حاصل کرتا ہے وہ سب آ جاتی ہے جس میں باطنی آنکھ لاشعوری طاقتیں پرواز روح ٹیلی پیتھی وغیرہ وغیرہ ہے
روحانیت ایک یونیورسل لاء ہے یہ کسی مذہب کی پابند نہیں ہے نہ کسی تقلید کی محتاح ہے روحانیت خالص مشاہدات کا نام ہے جو مراقبات سے حاصل کیے جاتے ہے خالق حقیقی نے کائنات کے اندر ہر چیز کو ڈئزائن کر دیا ہے کائنات کی ہر شے انرجی ہے ہر شے اپنے اصول وقوانین کے تحت کام کررہی ہے اور انرجی کو حاصل کرنے کے اصول ہیں قوانین ہیں جن کے تحت انرجیز حرکت کرتی ہیں کوئ بھی انسان ان قوانین پر عمل کرکے انرجی حاصل کرسکتا ہے اسی طرح روحانیت کے جو قوانین ہے ان پر عمل کر کے انسان روحانیت حاصل کر سکتا ہے
روحانیت چونکہ انسان کی اپنی روحانی صلاحتیوں کا نام ہے جس کو انسان ایک عرصہ ارتکاز کی مشقوں اور مراقبوں سے بیدار کرتا ہے چونکہ جب انسان روحانیت کی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اسکا روح کی طرف سفر شروع ہو جاتا ہے لیکن روح سے پہلے اسے اپنے دماغ سے گزرنا ہوتا ہے روح ہمیشہ سے یکسو ہے جبکہ انسانی ذہن منتشر خیال ہے اس لیے اسے روح سے پہلے اپنے دماغی خیالات کو کنٹرول کر کے اسے یکسو کرنا ہوتا ہے یکسوئی کو روحانیت کی دنیا میں اہم ترین مقام حاصل ہے یکسوئی کے بغیر روحانیت کی دنیا میں اترنا نا ممکن ہے اور اسی یکسوئی کو حاصل کرنے کے لیے ہم مختلف ذہنی ارتکاز کی مشقیں کرتے ہے جس میں سانس کی مشقیں دائرہ بینی شمع بینی اور مراقبات کو اہمیت حاصل ہے جب ہم یکسوئی کا سفر طے کر کے روحانیت کی دنیا میں داخل ہوتے ہے تو وہاں انسان مشاہدات کی دنیا میں داخل ہوتا ہے اپنی روح کو پہچانتا ہے اس بات کو جانتا ہے کہ وہ صرف جسم نہیں بلکہ روح بھی ہے اور باقاعدہ جسم کے بغیر روح کی مدد سے سفر کے تجربات حاصل کرتا ہے
مجھے تو ان عجیب کم عقل لوگوں کی باتوں پر ہنسی آتی ہے جو یہ کہتے ہے کہ روحانیت کی طرف آؤ ان ذہنی مشقوں مراقبوں کو چھوڑو عجیب لوگ ہے یہ جو یکسوئی کی اہم ترین منزل کو اگنور کرتے ہے اور یکسوئی کے بغیر روحانیت میں اعلی مقام پانا چاہتے ہے اسی طرح کچھ کا کہنا ہے کہ روحانیت صرف مسلمان حاصل کر سکتا ہے اگر ایسی بات ہوتی تو غیر مسلم پھر روح کی پرواز کیسے کر لیتے ہے وہ کیسے ٹیلی پیتھی کی پاورز حاصل کر لیتے ہے بدھ مت کے ماننے والوں میں تو مسلمانوں کی نسبت یہ مراقبہ اور ماورائی علوم بہت زیادہ عام ہے اور وہ تو گھنٹوں مراقبے میں گم رہتے ہے اور ان کے تبتی لاما جو پہاڑوں میں مراقبہ میں گم ہوتے ہے وہ تو اپنے جسم سے کئی کئی دن باہر روح کے ساتھ آسمانی سفر کرتے ہے اور وہ کیسے پھر روحانی دنیا میں داخل ہو جاتے ہے اصل میں ہم مسلمانوں کا ایک مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھتے ہے کہ اللہ صرف ہمارا ہے باقی کسی کا نہیں حالانکہ اللہ خود فرناتا ہے کہ وہ سب کا رب ہے اب کوئی اسے مانے یا نہ مانے لیکن وہ مالک سب کا ہی ہے اور پوری دنیا اسی کے نور سے روشن ہے اور اسی وجہ سے اللہ اس دنیا میں کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا جو شخص محنت کرتا ہے اللہ اسکو اس کا صلہ ضرور دیتا ہے چاہے وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو بلکہ اس مادی دنیا میں ہمیں صاف نظر آ رہا ہے کہ غیر مسلم محنت کر کے اس دنیا میں ہم سے بہت آگے نکل گئے ہے بات عقل والا ہی سمجھ سکتا ہے کہ اگر ایک سمندر میں ایک کافر اور مسلمان ڈوب رہے ہو تو بچے گا وہی جس نے محنت کر کے تیرنا سیکھا ہوگا چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اسی میں اللہ کا فرمان ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کے لیے اس نے محنت کی
اب اگر کوئی غیر مسلم مراقبوں میں محنت کر کے روحانی دنیا میں داخل ہو جائے تو وہ اسکا حق بنتا تھا جو اللہ نے اسے دیا برعکس اس کے مسلمان سارا ٹائم یہی رٹ لگاتا رہے کہ میں مسلمان ہو اللہ صرف میرا ہے اور روحانیت بھی صرف میری ہے تو وہ اسکی کم عقلی ہوگی اسے کچھ نہیں ملنے والا جب تک وہ محنت نہ کرے
اور باقاعدہ غیر مسلم اب تو ان روحانی علوم کو سکھاتے ہے مختلف ادارے بنائے گئے ہے اور چند ایک ممالک تو ان پہ مہارت حاصل کر کے انکو اپنے ملک کے فائدے کے لیے استعمال کر رہے ہے جن میں سرفہرست اسرائیل آتا ہے اسرائیل ان علوم میں خاص کر ٹیلی پیتھی جیسے علوم میں بہت مہارت رکھتا ہے اور پوری دنیا میں سب سے زیادہ ٹیلی پیتھی کے ماہر اسرائیل میں ہے باقاعدہ ان علوم کو جاننے والوں کڑوڑں ماہانہ دے کر انکی صلاحتیوں کو استعمال کیا جاتا ہے کوئی بھی ملک صرف مادی لحاظ سے اتنا طاقتور نہیں ہو سکتا جب تک اس کے پچھے روحانی طاقتیں نہ ہو میرا ایک استاد جس نے بارہ سال لگا کر ٹیلی پیتھی سیکھی تھی اور وہ ٹیلی پیتھی کی فیلڈ کا ماہر ترین انسان تھا اتنی مہارت کے باوجود اسے اسرائیل سے آفر آئی تھی کہ وہ ان کے لیے کام کرے اسکی دنیاوی زندگی بادشاہوں جیسی کر دی جائے گی اس نے انکار کیا تو ان لوگوں نے اسکی ٹیلی پیتھی کی صلاحیت ہی ختم کر دی تھی کیونکہ وہ زیادہ لوگ تھے اور یہ اکیلا اسکی غلطی یہ تھی کہ اس نے ٹیلی پیتھی سے انٹرنیشنل لیول پر پنگے لینے شروع کر دیے تھے پھر انٹرنیشنل لیول پر انسان کو دشمن بھی ٹکر کے ملتے ہے وہی سے وہ اسرائیلی ماسٹرز کے ہتھے چڑھ گیا کیونکہ مجلس ابلیس سے اسرائیلی ٹیلی پیتھی کے ماسٹرز کو اس پاکستانی ٹیلی پیتھی والے کی خبر کر دی گئی تھی اور اسکا ان کو بتا دیا تھا
کیونکہ یہودی شروع سے ہی جادو اور ان پراسرار علوم میں بہت دلچسپی و مہارت رکھتے ہے یہ حضرت موسی علیہ السلام کے دور سے ہی جادو میں مہارت رکھتے تھے بے جان بچھڑے میں جادو سے جان ڈال کر لوگوں کو اسکی پوجا پہ لگا دیا تھا اور اس وقت کے جادوگر بھی ہیپناٹزم اور دماغ کنٹرول کرنے کے ماہر تھے جو صرف اپنے دماغ کی طاقت سے لوگوں کو خالی رسیاں پھنک کر سانپ دکھا دیتے تھے اور لوگوں کے دماغ اس طرح کنٹرول کر لیتے کہ انکو رسیاں بھی سانپ نظر آتی اور باقاعدہ یہ ابلیس کی شیطانی مجالس میں شرکت کرتے ہے کیونکہ اس دنیا میں ٹیلی پیتھی کا سب سے ماہر شیطان ہے جو اپنے علم سے لوگوں کے ذہنوں میں خیالات پھنکتا رہتا ہے اور یہ اسکی اس علم میں مہارت کی وجہ سے ہے کہ وہ ایک خیال ایک ہی وقت میں دنیا میں لاکھوں لوگوں کے ذہنوں میں بیک وقت ڈالتا ہے
اور جو بندہ بھی ٹیلی پیتھی کی فیلڈ میں مہارت حاصل کرتا ہے تو شیطان اس سے ضرور رابطہ کرتا ہے اور اسے دنیاوی رنگینیوں دولت عیش و آرام کی آفر پیش کرتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل جائے اور باقاعدہ انکی ابلییں کی مجالس میں شرکت کرے اگر کوئی کمزور ایمان والا ہو تو وہ آفر قبول کر لیتا ہے پیسے کی خاطر کیونکہ جس طرح صوفیا و اولیا کے نزدیک روحانی طور پر مجلس محمدی ہوتی ہے اسی طرح ان شیطانوں کی مجلس ابلیس ہوتی ہے انکا دربار لگتا ہے روحانی دنیا میں جہاں یہ لوگ ان باتوں کے لیے منصوبے بناتے ہے کہ دنیا میں ظلم و فسادات و مادیت کو کیسے عام کیا جائے اور اس ابلیس کی مجلس میں شرکت کرنے والوں میں رحم بلکل ختم ہو جاتا ہے اور وہاں انسان کو دنیاوی حسن دکھا کر بہکا دیا جاتا ہے اور شیطان کا ہتھیار وہاں موجود حسین دو شیزائیں بھرپور جوان لڑکیاں ہوتی ہے جن کو دیکھ کر اچھے اچھے بہک جاتے ہے جنہیں دیکھ کر یہی خیال آتا ہے کہ وہ شاید کسی جنت سے اتاری گئی حسین پریاں ہوں اور اس ابلیس کی مجلس میں بڑی تعداد اسرائیلی ٹیلی پیتھی کے ماسٹرز کی ہوتی ہے باقاعدہ شیطان انکی حفاظت کا ذمہ لیتا ہے کہ انکی صلاحیت کو کوئی ان سے چھینے نہ اور اسی علم کی وجہ سے کوئی اسلامی ملک اسرائیل کو روک نہیں پا رہا فلسطین میں ظلم سے
اور حیرت کی بات ہے کہ اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک ہے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں آ رہا اسکے پچھے انکی روحانی طاقتوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے ورنہ چند ایک اسلامی ملک بھی ایک ساتھ مل جائے تو اسرائیل کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے لیکن کسی ملک میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی بلکہ ان ممالک کے اداروں کو اس طرح کنٹرول کیا جا رہا ہے روحانی طور پر کہ وہ انکے خلاف لڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے
اور یہ صرف باتیں نہیں حقیقت ہے خود میرے تجربات میں ایسی چیزیں آئی ہے مثال کے طور پر اگر آپ جسم سے روح نکال کر روح کے ساتھ اسرائیل کے ایٹمی خفیہ مقامات تک جانا چاہے تب بھی نہیں جا سکتا ان لوگوں نے روحانی طو پر وہاں کا رستہ بند کر رکھا ہے کہ آپ اپنی روح کے ساتھ بھی وہاں سے ان کے خفیہ مقامات کی معلومات نہ دیکھ سکتے ہے نہ حاصل کر سکتے ہے اس سے آپ خود اندازہ لگا لے انکی روحانی ترقی کا البتہ مادی طور پر وہاں جانا ممکن ہے مگر روحانی طور پر نہیں باقی مادی طور پر بھی انہوں نے سخت انتظامات کر رکھے جس کی وجہ سے مادی طور پر بھی جانا نا ممکن ہے
اسی طرح امریکہ کا ایک ایریا ہے Area 51
اسکے متعلق بھی بہت کچھ خفیہ رکھا گیا ہے کہ وہاں کونسی معلومات ہے اور وہاں بھی روحانی طور پر جانا نا ممکن ہے کیونکہ وہاں بھی روحانی طاقت سے وہاں کا رستہ روکا ہے
اسرائیل کے پچھے اس وقت بڑی شیطانی طاقتوں کا ہاتھ ہے اسی طرح انکے لیڈران کا دماغ کنٹرول کرنا یا بدلنا بھی بڑا مشکل ہوتا ہے
ان کا مقابلہ تبھی ممکن ہے جب مسلمانوں کے پاس ان سے بھی زیادہ روحانی طاقتیں آئیں اگرچہ اسرائیل کا مقابلہ مسلم ممالک اب بھی اکٹھے ہو کر کر سکتے ہے لیکن اسرائیل انکو یہ سوچ یہ خیال کبھی نہیں آنے دے گا کہ وہ اسرائیل سے لڑنے کا سوچے بھی اور ایک انسان جب کچھ سوچ ہی نہیں سکتا تو وہ عمل کیا خاک کرے گا لیکن انشااللہ جب حضرت امام مہدی کا ظہور ہوگا تو وہ زبردست روحانی طاقت کے مالک ہونگے اور مسلمانوں کو دوبارہ سے روحانیت کی طرف لائیں گے پھر ان یہودیوں کا زوال شروع ہوگا ابھی انکا عروج ہے اس وقت پوری دنیا میں پوری دنیا کی ٹیکنالوجی اور پیسے کو کنٹرول کر رہے ہے یہ
کوئی بھی قوم روحانی طاقتوں کے بغیر ایک صرف مادی وسائل کی بنیاد پر ایک مضبوط قوم نہیں بن سکتی ورنہ دوسری قوم روحانی طاقتوں کی بنیاد پر غلبہ پا۔لیتی ہے جب ہمارے نبی حضور پاک نے دین کا سلسلہ شروع کیا تھا اور۔مختلف جنگوں میں فتوحات کی اور صرف تین سو تیرہ صحابہ تھے جبکہ مقابلے میں ہزاروں کفار تھے لیکن پھر بھی جیت مسلمانوں کی ہوئی ان فتوحات کی پچھے اس وقت حضور پاک اور صحابہ کرام کی زبردست روحانی طاقتیں موجود تھیں اور انہیں روحانی طاقت کی وجہ سے حضرت علی نے خیبر کا دروازہ اٹھا لیا تھا ورنہ مادی طور پر صرف ایک شخص ایسا نہیں کر سکتا تھا لیکن اس وقت کے مسلمانوں میں زبردست روحانی طاقتیں موجود تھیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کو مسلسل کامیابیاں مل رہی تھی
آخر میں شاید کچھ مسلمان اعتراض کرے کہ روحانیت قرب خداوندی کا نام ہے تو بھائی جان وہ تصوف میں چیز آتی ہے تصوف قرب خداوندی کا علوم سکھاتا ہے جبکہ روحانیت روحانی صلاحتیوں کو سیکھنے ان پر عمل کرنے انہیں حاصل کرنے کا نام ہے جس طرح مادی علوم مذہب کی قید سے آزاد ہے جنہیں کوئی بھی محنت کر کے کسی استاد کی زیر نگرانی سیکھ سکتا ہے بالکل اسی طرح روحانی علوم بھی خود کی محنت سے سیکھے جا سکتے ہے بشرطیکہ رستہ دکھانے والا صحیح استاد ساتھ ہو
آخر میں امید ہے آپ روحانیت اور اسکی اہمیت کو سمجھ گئے ہونگے روحانیت نہ صرف مادی دنیا میں انسان اور اس ملک کے باشندوں کو بلند مقام عطا کرتی ہے بلکہ اگر ساتھ اسلام پر بھی عمل کیا جائے تو آخرت میں بھی بلند مقام حاصل ہوتا ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں