"ساعت" گھڑی
ایک گھڑی وہ ہے، جو آپ کے کمرے کی دیوار پر ٹنگی ہے۔ اسے انسانوں نے اپنی سہولت کے لیے حسابی گنتی اور ٹائم زون کے مطابق ترتیب دیا ہے۔
ایک نادیدہ گھڑی وہ ہے، جو فطری نظام کے تحت چل رہی ہے۔ اس میں بھی چوبیس گھنٹے (ساعتیں) ہیں۔ لیکن اس کا حساب قدرے قدیمی اور فطرت سے زیادہ قریب ہے۔
طلوعِ آفتاب سے غروب آفتاب کے وقت کو "دن" (نہار day) کہتے ہیں، اور غروب آفتاب سے اگلے طلوع تک کے دورانیے کو "رات" (لیل night) کہتے ہیں۔ ہر دن کے بارہویں حصہ، اور ہر رات کے بارہویں حصہ کو "ساعت" کہتے ہیں۔ گویا دن کی بارہ ساعتیں، اور رات کی بارہ ساعتیں۔ تکنیکی طور ساعت، وقت کی اکائی time-unit کا نام ہے۔
عربی میں ساعت Sa’at کا لفظی مطلب ہی گھنٹہ ہے۔ لفظ "ساعت" وا حد ہے۔ اور "ساعات" اس کی جمع ہے۔ ساعت کو ہورا hora اور Planetary Hour بھی کہا جاتا ہے۔
ہر فطری گھنٹہ (ساعت) علامتاً ایک سیارہ سے منسوب ہے۔ یعنی فطری گھڑی کے گھنٹوں کو ایک دو تین چار وغیرہ کے بجائے زحل، مشتری، مریخ، شمس وغیرہ کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ ساعات کے نظام میں سات روایتی سیارگان کی مخصوص ترتیب یہ ہے۔ زحل – مشتری – مریخ – شمس – زہرہ – عطارد – قمر۔ جہاں ہر سیارہ کی ساعت سے کئی مثبت اور منفی امور وابستہ ہیں۔
٭ ٭ ٭
تاریخی پس منظر
علم الساعات۔۔۔ نہ تو عرب مسلمانوں کی ایجاد ہے؛ نہ یوروپی مسیحیوں کی اختراع ہے؛ اور نہ ہی یونانیوں کی دریافت ہے۔ ساعت کی تاریخ بہت ہی پرانی ہے۔ تاریخی طور پر یہ "زائچہ جاتی نجوم" (horoscopic astrology) سے بھی قدیم طریقہ ہے۔ دنیا کو ساعت کے نظام سے قدیم کلدانی Chaldeans تہذیب نے متعارف کروایا تھا، جو بابلیوں کے ہم عصر تھے۔ وہیں سے یہ باقی دنیا میں پھیلا۔
ساعت کا نظام، ہر دور میں کسی نہ کسی صورت مقبول رہا ہے۔ کیونکہ استخراجِ ساعت کے لیے علم ہیئت (آسٹرونومی) کی جدولوں اور مشکل فلکی حساب کتاب کی ضرورت نہیں۔ ٖصرف مقامی طلوع و غروب آفتاب معلوم ہونے سے کام چل جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عملیات، نقوش، پتھروں اور روحانی ٹوٹکوں کے مضامین میں آپ کو "ساعت" کے حوالے زیادہ ملیں گے۔ نجوم کی مستند کتب (خصوصاً جاتک یعنی باب الموالید) میں ساعت کا تذکرہ کافی نایاب ہے۔ ویسے کم لوگوں کو علم ہو کہ اوقات الصلوۃ اور نظامِ ساعت میں بھی ایک لطیف ربط پایا جاتا ہے۔
٭ ٭ ٭
ساعتوں کی ترتیب
ساعات کا دائرہ، ہفت سیارگان کی ترتیبِ نزولی کے تحت ہے:
زحل – مشتری – مریخ – شمس – زہرہ – عطارد – قمر۔
چونکہ ایک ساعت کا دورانیہ اوسطاً ایک گھنٹہ (تقریباً پون گھنٹے سے سوا گھنٹے) پر مشتمل ہوتا ہے۔ جبکہ دن و رات میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر روز ـ(دن و رات)، ہر سیارہ کی ساعت، تین سے چار مرتبہ آتی ہے۔ اپنے آپ کو دوہراتی ہے۔
مثلاً شمس کی ساعت، ہر اتوار کے روز چار مرتبہ مختلف اوقات میں آتی ہے۔ پیر کے روز تین مرتبہ آتی ہے۔ اسی طرح منگل اور جمعرات کے روز شمس کی ساعت چار چار مرتبہ مختلف اوقات میں آتی ہے۔ جبکہ ہر بدھ، جمعہ اور ہفتہ کو شمس کی ساعت تین تین مرتبہ آتی ہے۔
ہر روز کے لیے ساعاتِ سیارگان کی "ترتیب کا انحصار"، حاکم یوم weekday lord پر ہوتا ہے۔ بعض ماہرین، ہر یوم کے لیے ایک کے بجائے دو حاکمین کی تقسیم بھی کرتے ہیں۔ لیکن فی الحال سادہ اور عام معیاری قاعدہ کو دیکھتے ہیں۔
اتوار کے روز کا حاکم شمس ہے۔ اس لیے ہر اتوار کو طلوعِ آفتاب کے ساتھ ہی ساعتِ شمس شروع ہوتی ہے۔ پہلی ساعت شمس کے خاتمے پر، دوسری ساعت زہرہ کہلاتی ہے۔ پھر عطارد، قمر، زحل، مشتری، مریخ، اور پھر دوپہر بوقتِ ظہر، دوبارہ شمس کی ساعت آتی ہے۔ یہ گھنٹے وار چکر سارا دن جاری رہتا ہے۔ حتیٰ کہ ہر اتوار کے غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی زحل کی ساعت ختم ہوتی ہے۔ غروبِ آفتاب کے ساتھ مشتری کی ساعت شروع ہوتی ہے۔ بعد مشتری پھر مریخ، شمش، زہرہ، عطارد، قمر، زحل، اور علی الترتیب باقی مانندہ ساعتیں۔ اتوار کے روز کی آخری ساعت عطارد سے منسوب ہے (جو اگلے یوم پیر کے طلوع آفتاب سے پہلے والے گھنٹے پر مشتمل ہے)۔
پیر کے روز کا حاکم قمر ہے۔ اس لیے ہر پیر کو طلوعِ آفتاب سے پہلی ساعت قمر کی شروع ہوتی ہے۔ قمر کے بعد پھر زحل، مشتری، مریخ، شمس وغیرہ علی الترتیب چوبیس ساعتیں۔ پیر کے روز آخری ساعت مشتری کی ہوتی ہے۔
منگل کے روز کا حاکم مریخ ہے۔ اس لیے ہر منگل کو طلوعِ آفتاب سے پہلی ساعت مریخ کی شروع ہوتی ہے۔ مریخ کے بعد پھر شمس، زہرہ، عطارد، قمر وغیرہ علی الترتیب چوبیس ساعتیں۔ منگل کے روز اختتامی ساعت زہرہ کی ہوتی ہے۔
اسی طرح باقی ایام کے لیے ساعتوں کی ترتیب قائم کی گئی ہے۔
٭ ٭ ٭
ساعتوں کا دورانیہ
ساعاتِ سیارگان کے روزانہ "دورانیے کا انحصار"، آپ کے اپنے شہر کے اوقاتِ طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب اور موسموں پر ہے۔ فطری نظام کے مطابق، روزانہ سورج نکلنے سے سورج ڈوبنے کا دورانیہ "دن" (نہار) day کہلاتا ہے۔ جبکہ روزانہ غروبِ آفتاب سے اگلے طلوعِ آفتاب تک کا دورانیہ "رات" (لیل) night کہلاتا ہے۔ دن اور رات کی یہی تعریف نجوم میں رائج ہے۔
چاہے دن بڑے ہوں یا چھوٹے، ہر دن (نہار) میں بارہ ساعتیں ہوتی ہیں، اور ہر رات (لیل) بارہ ساعتیں ہوتی ہیں۔ گرمیوں میں دن بڑے ہوتے ہیں۔ لہٰذا گرمیوں کی ہر ایک ساعتِ نہار کا دورانیہ سوا گھٹنے کے آس پاس ہوتا ہے۔ چونکہ گرمیوں میں راتیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ لہٰذا گرمیوں کی ہر ایک ساعتِ لیل کا دورانیہ پون گھٹنے کے آس پاس ہوتا ہے۔ چونکہ بہار اور خزاں کے موسموں میں کچھ عرصے کے لیے دن اور رات کے دورانیے مساوی ہوجاتے ہیں۔ اس لیے ساعتوں کے دورانیے بھی ایک گھنٹہ اوسط کے قریب ترین اور مساوی ہوجاتے ہیں۔
یاد رہے کہ ہر روز طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب کے اوقات خفیف تبدیلی جاری رہتی ہے۔ نیز ہر ایک شہر کے لیے طلوع اور غروب کے وقت میں فرق ہوتا ہے۔ اس لیے اختیارات inceptions کے لیے اپنے موجودہ مقامِ رہائش (شہر/گاؤں) کی جدولِ ساعت استعمال کرنی چاہیے۔
٭ ٭ ٭
ساعت کیسے معلوم کریں؟
اگر آپ کے کمپیوٹر لیپ ٹاپ میں پروفیشنل ویسٹرن آسٹرولوجی سوفٹ ویئر انسٹال ہے؛ یا موبائیل فون پر آسٹرولوجی ایپ انسٹال ہے؛ تو ساعت کی ابتدا اور اختتام کا وقت معلوم کرنا کچھ مشکل نہیں۔ بہت سے سوفٹ ویئر اور ایپس میں روزانہ کی چوبیس ساعتوں کا ریڈی میڈ ٹیبل دیا ہوتا ہے۔ ویسٹرن آسٹرولوجی ایپ میں ساعت کو Planetary Hour اور جوتش ایپ میں ساعت کو Hora لکھا جاتا ہے۔
تاہم سوفٹ ویئر / ایپ سے ساعت دیکھنے سے پہلے اپنی ڈیفالٹ سیٹنگ میں موجودہ مقام (شہر/قصبہ/گاؤں) کو ضرور چیک کرلیں۔ کیونکہ ہر ساعت کی ابتدا اور اختتام کا انحصار، آپ کے مقامی علاقے کے طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب پر ہوتا ہے۔ یہ کم و بیش ویسا ہی معاملہ ہے، جیسے مختلف شہروں کے درمیان سحر و افطار کے اوقات کار باہم مختلف ہوتے ہیں۔
انتباہ: انڈین آسٹرولوجی کے مشہور سوفٹ ویئر JHora کو ساعت معلوم کرنے کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس کی Key Into tab میں Hora اور KalaHora کا طریقہ کار 24 گھنٹوں کی مساوی تقسیم پر مبنی ہے۔ اس طریقے میں دن اور رات کے دورانیے کو زیرغور نہیں لایا جاتا۔ یہ عام معیاری ساعات سے تھوڑا مختلف طریقہ ہے، جو مقامی وقت کی پیمائش کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
٭ ٭ ٭
ساعتوں کا استعمال
ساعتوں کو ہفت سیارگان سے علامتی طور پر ضرور منسوب کیا گیا ہے۔ تاہم یہ ساعتیں، آسمان پر موجود سیارگان کی حقیقی حرکت و گردش real transits پر منحصر نہیں ہیں۔ اس کے باوجود انھیں نجوم کی کچھ شاخوں میں جزوی طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ خصوصاً نجومِ اختیاری (مہورت) اور نجومِ رجوع (وقتی سوال/پرشن) میں۔ ہر ساعت سے کئی مثبت اور منفی امور اور خصوصیات وابستہ ہیں۔ اس کی مدد سے سائل کو جواب، یا اہم کام شروع کرنے وقت بتایا جاتا ہے۔ میں نے اپنے مشاہدہ میں ساعات کو "عام اختیارات" (سادھارن مہورت) میں کافی کارآمد پایا ہے۔
اچھی/بری ساعتوں کے حوالے سے دو طرح کی تقسیم پائی جاتی ہے۔ پہلی تقسیم، فطرتِ سیارگان کے مطابق ہے۔ چونکہ مشتری اور زہرہ، فطری طور پر سعد سیارے ہیں۔ اس لیے ان کی ساعتیں اچھی مانی گئی ہیں۔ چونکہ زحل اور مریخ نحس سیارے ہیں۔ اس لیے ان کی ساعتیں، بیشتر اُمور کے لیے قدرے ناقص تصور کی جاتی ہیں۔ عطارد ممتزج (ملا جلا) اور دوہرا ہے۔ شمس کی ساعت، اس کی اپنی منسوبات کے حوالے سے قوی الاثر ہے۔ جبکہ قمر کی ساعت، عام کاموں کے حوالے سے فوری نتیجہ لاتی ہے، جلد کام انجام کو پہنچ جاتا ہے۔ اچھی/بری ساعتوں کی ایک دوسری تقسیم بھی پائی جاتی ہے، جس کا استخراج مشکل ہے۔ فطری سعد و نحس سیارگان کی پہلی تقسیم، زیادہ معروف اور متفقہ علیہ ہے۔
یاد رہے کہ زائچہ شناسی اور فلکی تجزیے میں ساعات کا استعمال ثانوی اور جزوی نوعیت کا ہے۔ اسے حرفِ آخر نہ سمجھا جائے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں